“I bring a grievance, Lord, against the masters of the school: / They teach the fledglings of the falcon to grovel in the dust.”
اے پروردگار، مجھے مدرسے کے اساتذہ سے یہ شکایت ہے کہ وہ شاہین کے بچوں کو مٹی میں کھیلنے کا سبق سکھا رہے ہیں۔
علامہ اقبال اس شعر میں نظامِ تعلیم پر ایک درد بھرا شکوہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ نوجوانوں کی بلند پروازی کو کند کر رہا ہے۔ یہاں ’شاہین‘ خودداری، ہمت اور فلک بوس ارادوں کی علامت ہے، جبکہ ’خاک بازی‘ دنیاوی پستی اور بے مقصد زندگی کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر خدا سے فریاد کرتے ہیں کہ استاد ان باصلاحیت بچوں کو آسمان چھونے کا حوصلہ دینے کے بجائے محض خاک چھاننا سکھا رہے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
