“Where did you learn this dervish grace, O Iqbal, that even among emperors they speak of your sublime detachment?”
اے اقبال! تو نے یہ درویشی اور فقیری کہاں سے سیکھی ہے کہ بادشاہوں کی محفلوں میں بھی تیری بے نیازی کا چرچا ہو رہا ہے۔
اس شعر میں اقبال خود اپنے آپ سے بڑے دلکش اور حیرت بھرے انداز میں مخاطب ہیں کہ آخر انہوں نے یہ درویشانہ بے نیازی اور استغنا کہاں سے سیکھا ہے۔ یہاں درویشی اور بادشاہی کا خوبصورت موازنہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب انسان دنیا کے مال و دولت سے بے پروا ہو جاتا ہے تو بڑے بڑے تاجدار بھی اس کی خودداری کے قائل ہو جاتے ہیں۔ اصل میں یہ شعر بتاتا ہے کہ حقیقی شان و شوکت محلات میں نہیں بلکہ دل کی آزادی اور قلندری میں بستی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
