“The lore of wine, flagon, and cup is unknown to me; demand not of stone-cleavers the delicate craft of glass.”
مجھے شراب، صراحی اور جام کے قصے نہیں آتے؛ پتھر توڑنے والوں سے شیشہ سازی کا تقاضا مت کرو۔
اس شعر میں شاعر بڑی خوبصورتی اور وقار سے اپنی باہمت اور پرعزم طبیعت کا تعارف پیش کرتا ہے۔ بادہ و جام کی لطیف دنیا دراصل عیش و نشاط اور نازک خیالی کی علامت ہے، جب کہ 'خارا شگاف' اُسے کہتے ہیں جو چٹانوں کا سینہ چیرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ جس کا مزاج ہی سخت کوشی اور کٹھن راہوں پر چلنے سے بنا ہو، اُس سے شیشے تراشنے جیسی نزاکت کی توقع رکھنا بے معنی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
