“The dervish possesses naught save the two words 'There is no god', while the city's jurist hoards like Korah the lexicons of Hijaz.”
قلندر کے پاس 'لا الٰہ' کے سوا کچھ نہیں ہوتا، جبکہ شہر کا فقیہ عربی لغات اور الفاظ کے خزانوں کا قارون بنا بیٹھا ہے۔
علامہ اقبال نے اس شعر میں قلندر کے اخلاص اور فقیہ کی لفظی نمائش کا موازنہ خوبصورتی سے کیا ہے۔ درویش کے پاس دنیاوی سج دھج نہیں، بس ’لا الٰہ‘ کی سچی توحید اور روح کی آزادی ہے۔ اس کے برعکس، فقیہِ شہر قارون کی طرح عربی لغات اور کتابی علم کا انبار لگائے بیٹھا ہے، مگر اس لفظی دولت کے باطن میں وہ سوز اور تڑپ غائب ہے جو دل کو جلا بخشتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
