“The ancient prey have changed at last the manner of their gaze, for I laid bare the royal falcon's predatory ways.”
ایک طویل عرصے سے شکار بننے والوں کے دیکھنے کا انداز بدل گیا ہے، کیونکہ میں نے باز کے شکار کرنے کے طریقے اور چالیں بے نقاب کر دی ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے مظلوموں کے اندر بیدار ہونے والے نئے شعور اور جرات کا ذکر کیا ہے۔ ’نخچیر‘ یعنی صدیوں سے شکار بننے والے لوگ ہمیشہ خوف اور بے بسی کے عالم میں جیتے رہے، جبکہ ’شاہباز‘ ان پر مسلط ظالم اور طاقتور کی علامت ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب میں نے حکمرانوں اور شکاریوں کے فریب کا پردہ چاک کر دیا، تو کمزوروں کی آنکھوں سے خوف رخصت ہو گیا اور ان کے اندازِ نظر میں وقار اور خودداری آ گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
