غزل
मता-ए-बे-बहा है दर्द-ओ-सोज़-ए-आरज़ूमंदी
मता-ए-बे-बहा है दर्द-ओ-सोज़-ए-आरज़ूमंदी
یہ غزل بتاتی ہے کہ رغبتِ آزادی کا درد و سوز بے باحہ ہوتا ہے۔ یہ دنیا اور آزادی کے جھوٹے بندھنوں پر طنز کرتی ہے، جہاں جینے اور مرنے دونوں کے لیے پابندیاں ہیں۔ اس میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ محب کے آوارہ کو صرف تیرا دیرپا پن ہی بھڑکا دینے والی آتِش ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मता-ए-बे-बहा है दर्द-ओ-सोज़-ए-आरज़ूमंदी
मक़ाम-ए-बंदगी दे कर न लूँ शान-ए-ख़ुदावंदी
تمہارے احسان کی تمنا میں یہ درد اور سوزِ آرزومندی بے قیمت ہے؛ میں بندگی کا مقام پا کر بھی خُداوندی کی شان نہیں لینا چاہوں گا۔
2
तिरे आज़ाद बंदों की न ये दुनिया न वो दुनिया
यहाँ मरने की पाबंदी वहाँ जीने की पाबंदी
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا، یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی۔
3
हिजाब इक्सीर है आवारा-ए-कू-ए-मोहब्बत को
मिरी आतिश को भड़काती है तेरी देर-पैवंदी
یہ حجاب ایک اکسیر ہے آوارۂ کؤہ محبت کو، میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر-پیمندی۔
4
गुज़र-औक़ात कर लेता है ये कोह ओ बयाबाँ में
कि शाहीं के लिए ज़िल्लत है कार-ए-आशियाँ-बंदी
یہ پہاڑوں اور بیابان سے یوں گزر جاتا ہے کہ شاہی گھرانے کے لیے قفس بنانا ایک ذلت ہے۔
5
ये फ़ैज़ान-ए-नज़र था या कि मकतब की करामत थी
सिखाए किस ने इस्माईल को आदाब-ए-फ़रज़ंदी
یہ فَيْضاںِ نظر تھا یا کہ مَکتب کی کرامت تھی؟ سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟
6
ज़ियारत-गाह-ए-अहल-ए-अज़्म-ओ-हिम्मत है लहद मेरी
कि ख़ाक-ए-राह को मैं ने बताया राज़-ए-अलवंदी
میری قبر اہلِ عزم و ہمت کا مزار ہے؛ میں نے خاکِ راہ کو رازِ علوندی بتایا۔
7
मिरी मश्शातगी की क्या ज़रूरत हुस्न-ए-मअ'नी को
कि फ़ितरत ख़ुद-ब-ख़ुद करती है लाले की हिना-बंदी
میرے دلکش سجاوات کی کیا ضرورت ہے معنی کی خوبصورتی کے لیے، جب کہ فطرت خود بخود محبوب کے لیے مہندی کا سجا جانا کرتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
