غزل

ख़ुदी वो बहर है जिस का कोई किनारा नहीं

ख़ुदी वो बहर है जिस का कोई किनारा नहीं
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل نفس کی لامحد اور بے پایاں طاقت کا بیان کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خودی ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور یہ کہ سچے حوصلے سے سب سے مضبوط ڈھانچے بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ یہ کلام لچک اور جینے کے جذبے پر زور دیتا ہے، کہ انسان خود میں ڈوب کر بھی دوبارہ اٹھتا ہے، اور یہ روح محض ایک عارضی دھوکہ نہیں ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ख़ुदी वो बहर है जिस का कोई किनारा नहीं तू आबजू इसे समझा अगर तो चारा नहीं
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
خودی وہ بہر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اگر تو اسے صرف پانی سمجھا تو کوئی چارہ نہیں۔
2
तिलिस्म-ए-गुंबद-ए-गर्दूं को तोड़ सकते हैं ज़ुजाज की ये इमारत है संग-ए-ख़ारा नहीं
طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں
تلیسمِ گنبدِ گردون کو توڑا جا سکتا ہے، کیونکہ زجاج کی یہ عمارت خالص کوارٹز کے پتھر سے نہیں ہے۔
3
ख़ुदी में डूबते हैं फिर उभर भी आते हैं मगर ये हौसला-ए-मर्द-ए-हेच-कारा नहीं
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر اٹھ بھی آتے ہیں، مگر یہ حوصلہِ مردِ ہچکارا نہیں ہے۔
4
तिरे मक़ाम को अंजुम-शनास क्या जाने कि ख़ाक-ए-ज़ि़ंदा है तू ताबा-ए-सितारा नहीं
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانتا ہے کہ تو زندہ کی خاک ہے، تارے کی تابا نہیں।
5
यहीं बहिश्त भी है हूर ओ जिबरईल भी है तिरी निगह में अभी शोख़ी-ए-नज़ारा नहीं
یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں
یہاں بہشت بھی ہے، حور اور جبرئیل بھی ہیں، مگر تیری نگاہ میں ابھی شوخیِ نज़ारा نہیں ہے۔
6
मिरे जुनूँ ने ज़माने को ख़ूब पहचाना वो पैरहन मुझे बख़्शा कि पारा पारा नहीं
مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں
میرے جنون نے زمانے کو خوب پہچانا، وہ پہرن مجھے بخشا کہ پَرا پَرا نہیں۔
7
ग़ज़ब है ऐन-ए-करम में बख़ील है फ़ितरत कि लाल-ए-नाब में आतिश तो है शरारा नहीं
غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں
करम की आँखों में क्या कंजूसी है, कि प्रिय के स्वरूप में केवल चिंगारी नहीं, बल्कि आग है।
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.