Sukhan AI
غزل

ख़िरद ने मुझ को अता की नज़र हकीमाना

ख़िरद ने मुझ को अता की नज़र हकीमाना
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بیان کرتی ہے کہ عقل نے شاعر کو ایک روحانی نظر عطا کی ہے، جس نے اسے عشق کی تعلیم دی۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ کوئی شراب ہے، نہ سُرّاہی، نہ دور-اے-پیمانہ؛ بلکہ صرف نگاہوں نے ہی مجلسِ جانا کو رنگ دیا ہے۔ یہ غزل عشق کی گہرائی اور ایک پراسرار نشے کا بیان ہے، جہاں ہر چیز میں ایک کہانی پوشیدہ ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
न बादा है न सुराही न दौर-ए-पैमाना फ़क़त निगाह से रंगीं है बज़्म-ए-जानाना
نہ یہ کوئی بادا ہے، نہ کوئی سُرہی، نہ کوئی پیمانہ؛ صرف نگاہ نے ہی بزمِ جناں کو رنگ دیا ہے۔
3
मिरी नवा-ए-परेशाँ को शाइरी न समझ कि मैं हूँ महरम-ए-राज़-ए-दुरून-ए-मय-ख़ाना
میری پریشان شاعری کو گیت نہ سمجھنا، کہ میں اپنے دل کے گہرے رازوں کا رازدار ہوں۔
4
कली को देख कि है तिश्ना-ए-नसीम-ए-सहर इसी में है मिरे दिल का तमाम अफ़्साना
کلی کو دیکھ کر صبح کی نسیم کے لیے کیسی پیاس ہے؛ اسی میں میرے دل کی پوری کہانی ہے۔
5
कोई बताए मुझे ये ग़याब है कि हुज़ूर सब आश्ना हैं यहाँ एक मैं हूँ बेगाना
کوئی بتائے مجھے یہ غائب ہے کہ حضور، سب یہاں آشنا ہیں، مگر میں ایک بیگانہ ہوں۔
6
फ़रंग में कोई दिन और भी ठहर जाऊँ मिरे जुनूँ को संभाले अगर ये वीराना
فَرَنْگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں، اگر یہ ویرانہ میرے جنوں کو سنبھالے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.