غزل
ख़िरद ने मुझ को अता की नज़र हकीमाना
ख़िरद ने मुझ को अता की नज़र हकीमाना
یہ غزل بیان کرتی ہے کہ عقل نے شاعر کو ایک روحانی نظر عطا کی ہے، جس نے اسے عشق کی تعلیم دی۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ کوئی شراب ہے، نہ سُرّاہی، نہ دور-اے-پیمانہ؛ بلکہ صرف نگاہوں نے ہی مجلسِ جانا کو رنگ دیا ہے۔ یہ غزل عشق کی گہرائی اور ایک پراسرار نشے کا بیان ہے، جہاں ہر چیز میں ایک کہانی پوشیدہ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़िरद ने मुझ को अता की नज़र हकीमाना
सिखाई इश्क़ ने मुझ को हदीस-ए-रिंदाना
خرد نے مجھ کو حکیمانہ نظر عطا کی، اور عشق نے مجھ کو رندانہ قصہ سکھایا۔
2
न बादा है न सुराही न दौर-ए-पैमाना
फ़क़त निगाह से रंगीं है बज़्म-ए-जानाना
نہ یہ کوئی بادا ہے، نہ کوئی سُرہی، نہ کوئی پیمانہ؛ صرف نگاہ نے ہی بزمِ جناں کو رنگ دیا ہے۔
3
मिरी नवा-ए-परेशाँ को शाइरी न समझ
कि मैं हूँ महरम-ए-राज़-ए-दुरून-ए-मय-ख़ाना
میری پریشان شاعری کو گیت نہ سمجھنا، کہ میں اپنے دل کے گہرے رازوں کا رازدار ہوں۔
4
कली को देख कि है तिश्ना-ए-नसीम-ए-सहर
इसी में है मिरे दिल का तमाम अफ़्साना
کلی کو دیکھ کر صبح کی نسیم کے لیے کیسی پیاس ہے؛ اسی میں میرے دل کی پوری کہانی ہے۔
5
कोई बताए मुझे ये ग़याब है कि हुज़ूर
सब आश्ना हैं यहाँ एक मैं हूँ बेगाना
کوئی بتائے مجھے یہ غائب ہے کہ حضور، سب یہاں آشنا ہیں، مگر میں ایک بیگانہ ہوں۔
6
फ़रंग में कोई दिन और भी ठहर जाऊँ
मिरे जुनूँ को संभाले अगर ये वीराना
فَرَنْگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں، اگر یہ ویرانہ میرے جنوں کو سنبھالے۔
7
मक़ाम-ए-अक़्ल से आसाँ गुज़र गया 'इक़बाल'
मक़ाम-ए-शौक़ में खोया गया वो फ़रज़ाना
عقل کے مقام سے آسان گزر گیا اقبال، مگر شوق کے مقام میں کھو گئی وہ فرزانہ۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
