Sukhan AI
غزل

कमाल-ए-तर्क नहीं आब-ओ-गिल से महजूरी

कमाल-ए-तर्क नहीं आब-ओ-गिल से महजूरी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل منطق (تَرق) کی عظمت کو مسترد کرتے ہوئے، محبت اور غم (آب و گِل) میں پنہاں جذباتی تجربات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ حقیقی 'کمال' عقل میں نہیں، بلکہ جذبات کی گہرائی میں ہے، اور سچا 'فقر' ہی اصل دولت ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कमाल-ए-तर्क नहीं आब-ओ-गिल से महजूरी कमाल-ए-तर्क है तस्ख़ीर-ए-ख़ाकी ओ नूरी
تَرق کا کمال نہ آب و گیل سے مہجوری ہے، اور نہ ہی وہ کمال ہے جو خاک و نور کو فتح کرنے سے ملتا ہے۔
3
न फ़क़्र के लिए मौज़ूँ न सल्तनत के लिए वो क़ौम जिस ने गँवाई मता-ए-तैमूरी
نہ یہ فقر کے لیے ہے اور نہ ہی یہ سلطنت کی شان کے لیے، بلکہ اُس قوم کے لیے جس نے تیموریوں کا مرتبہ کھو دیا।
4
सुने न साक़ी-ए-महवश तो और भी अच्छा अयार-ए-गरमी-ए-सोहबत है हर्फ़-ए-माज़ूरी
اگر ساقي-ئے محبوش نہ سنے تو اور بھی اچھا ہے، کیونکہ عاشق کا عیش تو محض لفظِ مازوری میں ہے۔
6
वो मुल्तफ़ित हों तो कुंज-ए-क़फ़स भी आज़ादी न हों तो सेहन-ए-चमन भी मक़ाम-ए-मजबूरी
اگر وہ مُلتَفِت ہوں تو کنجِ قفس بھی آزادی ہے، نہ ہوں تو سَہَنِ چمن بھی مَقَامِ مَجبوری۔
7
बुरा न मान ज़रा आज़मा के देख इसे फ़रंग दिल की ख़राबी ख़िरद की मामूरी
بُرا نہ مان، ذرا آزما کے دیکھ اسے۔ فَرنگ دل کی خرابی، خِرد کی مامیوری۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

कमाल-ए-तर्क नहीं आब-ओ-गिल से महजूरी | Sukhan AI