غزل
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
یہ کلام کائنات کی ہمہ گیر حرکت اور سفر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں چاند تاروں سے لے کر تمام مخلوقات مسلسل راہی ہیں۔ علامہ اقبال اس کائناتی کارواں میں انسان کو امیرِ لشکر اور مرکزی ہیرو کا رتبہ دیتے ہوئے اسے اپنے اصل مقام اور خودی کی بیداری کا درس دیتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
हर शय मुसाफ़िर हर चीज़ राही
क्या चाँद तारे क्या मुर्ग़ ओ माही
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
کائنات کی ہر شے اور مخلوق ایک مسافر ہے جو سفر میں ہے، خواہ وہ چاند تارے ہوں یا پرندے اور مچھلیاں۔
2
तू मर्द-ए-मैदाँ तू मीर-ए-लश्कर
नूरी हुज़ूरी तेरे सिपाही
تو مرد میداں تو میر لشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی
آپ میدانِ جنگ کے بہادر سپاہی اور لشکر کے سردار ہیں، اور بارگاہ کے نوری فرشتے آپ کے سپاہی ہیں۔
3
कुछ क़द्र अपनी तू ने न जानी
ये बे-सवादी ये कम-निगाही
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
تم نے میری ذرا بھی قدر نہ پہچانی؛ یہ تمہاری کیسی بے ذوقی اور کم نظری ہے۔
4
दुनिया-ए-दूँ की कब तक ग़ुलामी
या राहेबी कर या पादशाही
دنیائے دوں کی کب تک غلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی
اس کمینی اور حقیر دنیا کی غلامی کب تک کرو گے؟ یا تو رہبانیت اختیار کر کے اسے بالکل چھوڑ دو یا پھر بادشاہ بن کر اس پر حکومت کرو۔
5
पीर-ए-हरम को देखा है मैं ने
किरदार-ए-बे-सोज़ गुफ़्तार वाही
پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز گفتار واہی
میں نے حرم کے بزرگ کو دیکھا ہے؛ اس کا کردار باطنی سوز و تڑپ سے خالی ہے اور اس کی باتیں سراسر فضول اور بے معنی ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
