دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی

“How long will you remain in thrall to this vile world? Either choose the hermit's renunciation, or rule it like a king.”

— علامہ اقبال
معنی

اس کمینی اور حقیر دنیا کی غلامی کب تک کرو گے؟ یا تو رہبانیت اختیار کر کے اسے بالکل چھوڑ دو یا پھر بادشاہ بن کر اس پر حکومت کرو۔

تشریح

یہ شعر انسان کو لاچاری اور کم ہمتی کی زندگی سے نکل کر خودداری اختیار کرنے کا جاندار پیغام دیتا ہے۔ شاعر جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے کہ اس حقیر دنیا اور اس کی چھوٹی موٹی مجبوریوں کی غلامی آخر کب تک کرو گے؟ خود کو پہچانو اور وقار کے ساتھ جیو؛ یا تو کسی درویش کی طرح دنیا کے فریب سے بے نیاز ہو جاؤ، یا پھر اپنے عزم اور کردار سے بادشاہ کی طرح زمانے پر حکمرانی کرو، لیکن کبھی بے بسی اور ذلت پر راضی نہ ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.