ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی

“Every thing a traveler, every entity on the way: be it the moon and stars, or birds of the air and fish of the sea.”

— علامہ اقبال
معنی

کائنات کی ہر شے اور مخلوق ایک مسافر ہے جو سفر میں ہے، خواہ وہ چاند تارے ہوں یا پرندے اور مچھلیاں۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں پوری کائنات کو ایک رواں دواں کارواں کے روپ میں پیش کیا ہے، جہاں سکون صرف ایک خواب ہے اور حرکت ہی اصل زندگی ہے۔ آسمان کے چاند تارے ہوں یا فضا میں اڑتے پرندے اور سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی مچھلیاں، ہر مخلوق اپنے مقدر کے سفر پر گامزن ہے۔ یہ خوبصورت خیال ہمیں احساس دلاتا ہے کہ تغیر اور سفر ہی اس ہستی کا حسن ہے، جس میں ہم سب ایک ناختم ہونے والے راستے کے راہی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.