“You knew no measure of my true worth—what lack of taste, what narrow sight!”
تم نے میری ذرا بھی قدر نہ پہچانی؛ یہ تمہاری کیسی بے ذوقی اور کم نظری ہے۔
اس شعر میں عاشق محبوب سے ایک گہرا اور خوددارانہ شکوہ کر رہا ہے کہ تم نے میری قدر و قیمت کو بالکل نہیں پہچانا۔ وہ اپنی بے قدری پر آنسو بہانے کے بجائے محبوب کے ذوق پر چوٹ کرتا ہے کہ یہ تمہاری کم نگاہی اور ناسمجھ فہم کا قصور ہے جو تم نے ایک نایاب موتی کو گنوا دیا۔ یہ شعر اس احساسِ زیاں کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے جہاں دل کی قدر نہ ہونے پر مایوسی بھی ہے اور اپنی ذات کا مان بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
