غزل
दिगर-गूँ है जहाँ तारों की गर्दिश तेज़ है साक़ी
दिगर-गूँ है जहाँ तारों की गर्दिश तेज़ है साक़ी
یہ غزل ایک تنہا اور بے چین دل کی فریاد ہے، جو 'ساقی' سے اپنے گہرے جذباتی اور روحانی زخموں کا علاج مانگ رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ستاروں کا چکر تیز ہے، لیکن اس کے دل میں مایوسی اور بے چینی کا زخم ہے۔ وہ افسوس کرتا ہے کہ دین و دانش کی مسکراہٹ چھین لی گئی ہے، اور اس کے دل کی بیماری کا علاج صرف ساقی کی نشہ آور کرم سے ہو سکتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिगर-गूँ है जहाँ तारों की गर्दिश तेज़ है साक़ी
दिल-ए-हर-ज़र्रा में ग़ोग़ा-ए-रुस्ता-ख़े़ज़ है साक़ी
اے ساقی، جہاں ستاروں کی گردش تیز ہے، اے ساقی، دل کے ہر ذرے میں رُستّا-خیز کا نشہ ہے۔
2
मता-ए-दीन-ओ-दानिश लुट गई अल्लाह-वालों की
ये किस काफ़िर-अदा का ग़म्ज़ा-ए-ख़ूँ-रेज़ है साक़ी
متائے دین و دانش اللہ والوں سے لوٹ گئی، یہ کس کافر ادا کا غمزأ خون ریز ہے ساقی۔
3
वही देरीना बीमारी वही ना-मोहकमी दिल की
इलाज इस का वही आब-ए-नशात-अंगेज़ है साक़ी
وہیں دیرینہ بیماری، وہیں نا-مہوکمی دل کی، علاج اِس کا وہیں آبِ نشات-انگیز ہے ساقی۔
4
हरम के दिल में सोज़-ए-आरज़ू पैदा नहीं होता
कि पैदाई तिरी अब तक हिजाब-आमेज़ है साक़ी
حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا، کہ پیدائی تیری اب تک حجاب آماز ہے۔ ساقی
5
न उट्ठा फिर कोई 'रूमी' अजम के लाला-ज़ारों से
वही आब-ओ-गिल-ए-ईराँ वही तबरेज़ है साक़ी
ن اُٹھا پھر کوئی 'رومی' اجم کے لالا-ذاروں سے۔ وہی آب و گِلِ ایران، وہی تبریز ہے ساقی۔
6
नहीं है ना-उमीद 'इक़बाल' अपनी किश्त-ए-वीराँ से
ज़रा नम हो तो ये मिट्टी बहुत ज़रख़ेज़ है साक़ी
اے ساقی، نہیں ہے ناامید 'اقبال' اپنی قِشْتِ-ے-ویراں سے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔ (مطلب یہ ہے کہ اقبال، اپنی بَنجر زمین سے مایوس نہ ہو، کیونکہ اگر اسے تھوڑا پانی مل جائے تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے، اے ساقی۔)
7
फ़क़ीर-ए-राह को बख़्शे गए असरार-ए-सुल्तानी
बहा मेरी नवा की दौलत-ए-परवेज़ है साक़ी
فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سلطانی، بہا میری نَوا کی دولتِ پرویژ ہے ساقی
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
