Sukhan AI
غزل

दिगर-गूँ है जहाँ तारों की गर्दिश तेज़ है साक़ी

दिगर-गूँ है जहाँ तारों की गर्दिश तेज़ है साक़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک تنہا اور بے چین دل کی فریاد ہے، جو 'ساقی' سے اپنے گہرے جذباتی اور روحانی زخموں کا علاج مانگ رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ستاروں کا چکر تیز ہے، لیکن اس کے دل میں مایوسی اور بے چینی کا زخم ہے۔ وہ افسوس کرتا ہے کہ دین و دانش کی مسکراہٹ چھین لی گئی ہے، اور اس کے دل کی بیماری کا علاج صرف ساقی کی نشہ آور کرم سے ہو سکتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
वही देरीना बीमारी वही ना-मोहकमी दिल की इलाज इस का वही आब-ए-नशात-अंगेज़ है साक़ी
وہیں دیرینہ بیماری، وہیں نا-مہوکمی دل کی، علاج اِس کا وہیں آبِ نشات-انگیز ہے ساقی۔
5
न उट्ठा फिर कोई 'रूमी' अजम के लाला-ज़ारों से वही आब-ओ-गिल-ए-ईराँ वही तबरेज़ है साक़ी
ن اُٹھا پھر کوئی 'رومی' اجم کے لالا-ذاروں سے۔ وہی آب و گِلِ ایران، وہی تبریز ہے ساقی۔
6
नहीं है ना-उमीद 'इक़बाल' अपनी किश्त-ए-वीराँ से ज़रा नम हो तो ये मिट्टी बहुत ज़रख़ेज़ है साक़ी
اے ساقی، نہیں ہے ناامید 'اقبال' اپنی قِشْتِ-ے-ویراں سے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔ (مطلب یہ ہے کہ اقبال، اپنی بَنجر زمین سے مایوس نہ ہو، کیونکہ اگر اسے تھوڑا پانی مل جائے تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے، اے ساقی۔)
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.