न उट्ठा फिर कोई 'रूमी' अजम के लाला-ज़ारों से
वही आब-ओ-गिल-ए-ईराँ वही तबरेज़ है साक़ी
“No one else rises from the fountains of the pomegranate's sap, O Rumi; only the spring of Iran, only Tabriz, O cupbearer.”
— علامہ اقبال
معنی
ن اُٹھا پھر کوئی 'رومی' اجم کے لالا-ذاروں سے۔ وہی آب و گِلِ ایران، وہی تبریز ہے ساقی۔
تشریح
یہ شعر ایک دائمی، اٹل شان و شوکت کی بات کرتا ہے۔ شاعر صاقی سے کہہ رہے ہیں کہ روحانی جوش و جذبہ، یا وہ اصلی نغمہ... وہ ہمیشہ وہی رہے گا۔ ایران کا آب و گِل اور تبریز کا وقار، یہ ہمیشہ یاد دلاتا ہے کہ اصل ماخذ کبھی نہیں بدلتا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
