غزل
ढूँड रहा है फ़रंग ऐश-ए-जहाँ का दवाम
ढूँड रहा है फ़रंग ऐश-ए-जहाँ का दवाम
یہ غزل دنیا کی عارضی خوشیوں میں پائیداری کی تلاش کرتی ہے۔ شاعر اس دنیاوی مسرت کے مستقل وجود کو ڈھونڈنے کی جستجو کا اظہار کرتا ہے، لیکن اسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ عشق اور زندگی کے سچائیے اکثر غیر مستحکم اور فانی ہوتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ढूँड रहा है फ़रंग ऐश-ए-जहाँ का दवाम
वाए-तमन्ना-ए-ख़ाम वाए-तमन्ना-ए-ख़ाम
وہ دنیا کے نشے کا مستقل علاج ڈھونڈ رہا ہے، ہمیشہ، ہمیشہ کچے شوق کے لیے۔
2
पीर-ए-हरम ने कहा सुन के मेरी रूएदाद
पुख़्ता है तेरी फ़ुग़ाँ अब न इसे दिल में थाम
پیرِ حرم نے میری غمگین حالت سن کر کہا، 'تیرا غم بہت مضبوط ہے؛ اسے اب دل میں نہ تھام۔'
3
था अरिनी गो कलीम मैं अरिनी गो नहीं
उस को तक़ाज़ा रवा मुझ पे तक़ाज़ा हराम
میں وہ ارینی گو نہیں، میں ارینی گو نہیں ہے۔ اس کو تکٰذا رَوا مجھ پہ تکٰذا حَرَام۔
4
गरचे है इफ़शा-ए-राज़ अहल-ए-नज़र की फ़ुग़ाँ
हो नहीं सकता कभी शेवा-ए-रिंदाना आम
اگرچہ راز کا افشاء دیکھنے والوں کا غم ہے، مگر بھٹکنے والے بانسری کا عام ہونا کبھی ممکن نہیں ہے۔
5
हल्क़ा-ए-सूफ़ी में ज़िक्र बे-नम ओ बे-सोज़-ओ-साज़
मैं भी रहा तिश्ना-काम तू भी रहा तिश्ना-काम
حلقۂ صوفی میں ذکر بے نم او بے سوز و ساز
میں بھی رہا تشنۂ کام تو بھی رہا تشنۂ کام
6
इश्क़ तिरी इंतिहा इश्क़ मिरी इंतिहा
तू भी अभी ना-तमाम मैं भी अभी ना-तमाम
محبت کا عروج (انتہا) تمہاری ہے اور میری بھی۔ تم ابھی پورے نہیں ہوئے اور میں بھی ابھی پورا نہیں ہوا۔
7
आह कि खोया गया तुझ से फ़क़ीरी का राज़
वर्ना है माल-ए-फ़क़ीर सल्तनत-ए-रूम-ओ-शाम
آہ! کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز، ورنہ ہے مالِ فقیر سلطنتِ روم و شام۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
