غزل
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
یہ غزل محبّت کی گہری اداسی اور مایوسی کو بیان کرتی ہے، جہاں عاشق اپنے محبوب سے ملن کو اپنی قسمت میں نہیں پاتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر وہ مزید جیتا رہتا تو بھی یہ انتظار ہی رہتا، اور محبوب کے وعدوں پر طنز کرتا ہے کہ اگر ان میں حقیقت ہوتی تو وہ خوشی سے مر چکا ہوتا، نہ کہ جھوٹی امیدوں میں جیتا رہتا۔ یہ غزل تقدیر، ہجر اور ناکام عشق کے کرب کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ये न थी हमारी क़िस्मत कि विसाल-ए-यार होता
अगर और जीते रहते यही इंतिज़ार होता
یہ ہماری قسمت میں نہیں تھا کہ محبوب سے ملاقات ہوتی۔ اگر ہم اور زیادہ دیر تک زندہ رہتے، تو یہ ہی انتظار جاری رہتا۔
2
तिरे वा'दे पर जिए हम तो ये जान झूट जाना
कि ख़ुशी से मर न जाते अगर ए'तिबार होता
تیرے وعدے پر ہم جئے تو اسے جھوٹ جاننا۔ کیونکہ اگر ہمیں واقعی اعتبار ہوتا تو ہم خوشی سے مر نہ جاتے۔
3
तिरी नाज़ुकी से जाना कि बँधा था अहद बोदा
कभी तू न तोड़ सकता अगर उस्तुवार होता
تِری نازُکی سے میں سمجھ گیا کہ ہمارا وعدہ کمزور تھا۔ اگر وہ مضبوط ہوتا تو تُو اسے کبھی توڑ نہ سکتی تھی۔
4
कोई मेरे दिल से पूछे तिरे तीर-ए-नीम-कश को
ये ख़लिश कहाँ से होती जो जिगर के पार होता
کوئی میرے دل سے تیرے تیرِ نیم کش کے بارے میں پوچھے. یہ خلش کہاں سے ہوتی اگر وہ جگر کے پار ہو جاتا؟
5
ये कहाँ की दोस्ती है कि बने हैं दोस्त नासेह
कोई चारासाज़ होता कोई ग़म-गुसार होता
یہ کیسی دوستی ہے کہ دوست صرف نصیحت کرنے والے بن گئے ہیں۔ کاش کوئی علاج کرنے والا ہوتا یا کوئی غم بانٹنے والا ہوتا۔
6
रग-ए-संग से टपकता वो लहू कि फिर न थमता
जिसे ग़म समझ रहे हो ये अगर शरार होता
اگر جسے تم غم سمجھ رہے ہو، وہ ایک چنگاری ہوتی، تو پتھر کی رگوں سے وہ خون ٹپکتا جو پھر کبھی نہ رکتا۔
7
ग़म अगरचे जाँ-गुसिल है प कहाँ बचें कि दिल है
ग़म-ए-इश्क़ गर न होता ग़म-ए-रोज़गार होता
غم اگرچہ جان لیوا ہے لیکن ہم اس سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس ایک دل ہے۔ اگر محبت کا غم نہ ہوتا تو پھر روزگار یا دنیا کا غم ہوتا۔
8
कहूँ किस से मैं कि क्या है शब-ए-ग़म बुरी बला है
मुझे क्या बुरा था मरना अगर एक बार होता
میں کس سے کہوں کہ یہ غم کی رات کیا ہے، یہ ایک بہت بری بلا ہے۔ مجھے مرنے میں کیا برائی تھی اگر موت صرف ایک بار آتی۔
9
हुए मर के हम जो रुस्वा हुए क्यूँ न ग़र्क़-ए-दरिया
न कभी जनाज़ा उठता न कहीं मज़ार होता
جب ہم مرنے کے بعد رسوا ہوئے تو دریا میں کیوں نہ ڈوب گئے؟ پھر نہ کبھی جنازہ اٹھتا اور نہ کہیں مزار بنتا۔
10
उसे कौन देख सकता कि यगाना है वो यकता
जो दुई की बू भी होती तो कहीं दो-चार होता
اسے کون دیکھ سکتا ہے، کیونکہ وہ یکتا اور یگانہ ہے۔ اگر ذرا سی بھی دوئی کی بو ہوتی تو وہ کہیں دوچار ہوتا۔
11
ये मसाईल-ए-तसव्वुफ़ ये तिरा बयान 'ग़ालिब'
तुझे हम वली समझते जो न बादा-ख़्वार होता
غالب! تّصوُّف کے یہ مشکل مسائل اور تمہارا یہ اندازِ بیان! ہم تمہیں ولی سمجھتے اگر تم شراب پینے والے نہ ہوتے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
