हुए मर के हम जो रुस्वा हुए क्यूँ न ग़र्क़-ए-दरिया
न कभी जनाज़ा उठता न कहीं मज़ार होता
“Disgraced were we upon our death, why not then drown within the river?No funeral bier would ever rise, no tomb would stand forever.”
— مرزا غالب
معنی
جب ہم مرنے کے بعد رسوا ہوئے تو دریا میں کیوں نہ ڈوب گئے؟ پھر نہ کبھی جنازہ اٹھتا اور نہ کہیں مزار بنتا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
