उसे कौन देख सकता कि यगाना है वो यकता
जो दुई की बू भी होती तो कहीं दो-चार होता
“Who can behold Him, the matchless, the One,If a scent of duality existed, He'd be met by someone.”
— مرزا غالب
معنی
اسے کون دیکھ سکتا ہے، کیونکہ وہ یکتا اور یگانہ ہے۔ اگر ذرا سی بھی دوئی کی بو ہوتی تو وہ کہیں دوچار ہوتا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
