غزل

وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک

وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: हुनूज़

اس غزل میں غالب نے آتشِ شوق، دشتِ وجود کی تپش اور نہ بجھنے والی پیاس کو نہایت پروازِ تخیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ کرم و فیض کی وسعتوں کے باوجود ہجر و آرزو کی جلن برقرار رہتی ہے اور عشق کے آبلہ پا سفر کی حرارت کبھی ماند نہیں پڑتی۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
वुसअत-ए-सई-ए-करम देख कि सर-ता-सर-ए-ख़ाक गुज़रे है आबला-पा अब्र-ए-गुहर-बार हुनूज़
وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
کرم اور سخاوت کی کوشش کا پھیلاؤ دیکھو کہ موتی برسانے والا بادل اب بھی پوری زمین پر آبلہ پا ہو کر گزر رہا ہے۔
2
यक-क़लम काग़ज़-ए-आतिश-ज़दा है सफ़्हा-ए-दश्त नक़्श-ए-पा में है तब-ए-गर्मी-ए-रफ़्तार हुनूज़
یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
صحرا کا پورا ورق جلے ہوئے کاغذ کی مانند ہو گیا ہے، مگر پاؤں کے نشان میں اب بھی اس تیز رفتاری کی تپش موجود ہے۔
3
दाग़-ए-अतफ़ाल है दीवाना ब-कोहसार हुनूज़ ख़ल्वत-ए-संग में है नाला तलब-गार हुनूज़
داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
پہاڑوں میں دیوانہ اب بھی بچوں کے مارے ہوئے پتھروں کے داغ لیے ہوئے ہے، اور پتھر کے خلوت خانے میں بھی اس کی فریاد اب تک طلب گار ہے۔
4
ख़ाना है सैल से ख़ू-कर्दा-ए-दीदार हुनूज़ दूरबीं दर-ज़दा है रख़्ना-ए-दीवार हुनूज़
خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
گھر کو اب بھی سیلاب کا نظارہ کرنے کی عادت ہے، اور دیوار کا شگاف اب بھی دوربین کی طرح دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے۔
5
आई यक-उम्र से मअज़ूर-ए-तमाशा नर्गिस चश्म-ए-शबनम में न टूटा मिज़ा-ए-ख़ार हुनूज़
آئی یک عمر سے معذور تماشہ نرگس چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
نرگس کا پھول ایک عمر سے تماشا دیکھنے سے بے بس اور معذور رہا ہے، لیکن شبنم کی آنکھ میں کانٹے کی پلک اب تک نہیں ٹوٹی۔
6
क्यूँ हुआ था तरफ़-ए-आबला-ए-पा या-रब जादा है वा-शुदन-ए-पेचिश-ए-तूमार हुनूज़
کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب جادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز
اے پروردگار! (کانٹا یا قسمت) پاؤں کے چھالے کا طرف دار کیوں بنا، جبکہ راستہ تو ابھی بھی ایک طویل اور پیچیدہ طومار کی طرح کھلتا ہی جا رہا ہے۔
7
हों ख़मोशी-ए-चमन हसरत-ए-दीदार 'असद' मिज़ा है शाना-कश-ए-तुर्रा-ए-गुफ़्तार हुनूज़
ہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ مژہ ہے شانہ کش طرۂ گفتار ہنوز
اے اسد! اگرچہ میں دیدار کی حسرت لیے باغ کی خاموشی بن چکا ہوں، لیکن اب بھی میری پلکیں گفتگو کی زلفیں سنوار رہی ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.