“Why was it partial to the blistered foot, O Lord, when the road remains the unfurling of an endless scroll?”
اے پروردگار! (کانٹا یا قسمت) پاؤں کے چھالے کا طرف دار کیوں بنا، جبکہ راستہ تو ابھی بھی ایک طویل اور پیچیدہ طومار کی طرح کھلتا ہی جا رہا ہے۔
غالب اس شعر میں انسانی برداشت اور زندگی کے لاانتہا سفر کے دردناک تضاد کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ شکوہ کرتے ہیں کہ اے خدا، پاؤں کے چھالوں کی باری اتنی جلدی کیوں آ گئی جب کہ مصیبتوں کا راستہ تو ابھی کسی لمبے طومار کی طرح کھلتا ہی چلا جا رہا ہے۔ شعر کا اصل المیہ یہ ہے کہ مسافر کی ہمت اور جسمانی طاقت تو راستے میں ہی ختم ہو گئی، مگر سفر کی وسعت اب بھی باقی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
