“For an age has the narcissus been helpless to behold the spectacle, yet in the eye of the dewdrop, the thorn-lash remains unbroken still.”
نرگس کا پھول ایک عمر سے تماشا دیکھنے سے بے بس اور معذور رہا ہے، لیکن شبنم کی آنکھ میں کانٹے کی پلک اب تک نہیں ٹوٹی۔
غالب اس شعر میں نرگس کے پھول کی آنکھ کا دلکش استعارہ لاتے ہیں، جو ایک طویل عمر سے محبوب اور کائنات کے جلوے دیکھنے سے قاصر رہی ہے۔ دوسری طرف شبنم کے قطرے کی نازک آنکھ میں بھی کانٹے جیسی پلک کی چبھن آج تک نہیں ٹوٹی، یعنی نظارے کی راہ میں حائل رکاوٹ اور درد بدستور باقی ہے۔ یہ انسان کی اس ازلی حسرت کی ترجمانی ہے جہاں عمر بھر کے اشتیاق کے باوجود دید کا کمال درد اور تشنگی کے پردوں میں چھپا رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
