“Habituated still to watching for the flood, the ruined house awaits; / Through the breach within its wall, a telescope keeps watch upon the gates.”
گھر کو اب بھی سیلاب کا نظارہ کرنے کی عادت ہے، اور دیوار کا شگاف اب بھی دوربین کی طرح دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے۔
غالب نے یہاں برباد دل کی ایسی انوکھی تصویر کشی کی ہے جو اپنی تباہی سے ہی مانوس ہو چکا ہے۔ گھر جسے کبھی تند و تیز سیلاب نے برباد کیا تھا، اب اسی سیلاب کے دیدار کا عادی ہو چکا ہے اور دیوار کا رخنہ گویا دوربین بن کر اسی کے لوٹ آنے کی راہ تک رہا ہے۔ یہ اس دل کی حالت ہے جو درد اور عشق کا ایسا خوگر ہو جاتا ہے کہ اسے اسی بربادی میں سکون ملنے لگتا ہے جس نے اسے توڑا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
