داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز

“Still scarred by children's stones, the madman roams the mountain hill; Within the seclusion of the rock, his lament yearns on still.”

— مرزا غالب
معنی

پہاڑوں میں دیوانہ اب بھی بچوں کے مارے ہوئے پتھروں کے داغ لیے ہوئے ہے، اور پتھر کے خلوت خانے میں بھی اس کی فریاد اب تک طلب گار ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں عشق کے اُس مجنون کی تصویر کشی کرتے ہیں جو بستی کے شریر بچوں کے پتھروں سے بچ کر پہاڑوں میں جا بسا ہے، مگر وہ زخم اور داغ آج بھی اس کے وجود پر تازہ ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس ویرانے میں بھی اس کا اضطراب کم نہیں ہوا؛ اس کا نالہ چٹانوں کے دل میں اتر کر بھی کسی ہمدرد یا چنگاری کا طلب گار ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچی دیوانگی کا درد تنہائی میں بھی خاموش نہیں ہوتا، بلکہ بے جان پتھروں سے بھی اپنے جذبے کی بازگشت مانگتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.