“Though I am the garden's silence, yearning for a glimpse, O Asad, yet my eyelashes still comb the tangled curls of speech.”
اے اسد! اگرچہ میں دیدار کی حسرت لیے باغ کی خاموشی بن چکا ہوں، لیکن اب بھی میری پلکیں گفتگو کی زلفیں سنوار رہی ہیں۔
غالب اس شعر میں خاموشی اور طلبِ دیدار کا ایک بے حد نازک اور انوکھا منظر باندھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ محبوب کی دید کی حسرت میں کسی سنسان چمن کی طرح سراپا سکوت بنے بیٹھے ہیں، مگر ان کے اندر کی گفتگو تھمی نہیں۔ لب بے شک خاموش ہیں لیکن پلکیں اب بھی باتوں کی زلفوں میں کنگھی کر رہی ہیں، یعنی نگاہوں کی جنبش سارا حالِ دل سنانے میں مصروف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
