غزل

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: न हुआ था

اس غزل میں محبوب کے عمومی ظلم، بے وفائی اور سنگ دلی کا احوال بیان کیا گیا ہے جو کسی کے لیے بھی مخلص ثابت نہ ہوا۔ اس کا بنیادی لہجہ حسرت، گہرے رنج اور گردشِ تقدیر کے سامنے بے بسی و اداسی کا عکاس ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तू दोस्त कसू का भी सितमगर न हुआ था औरों पे है वो ज़ुल्म कि मुझ पर न हुआ था
تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
اے ظالم! تو تو کبھی کسی کا بھی دوست نہ تھا، مگر اب دوسروں پر تو وہ ستم ڈھا رہا ہے جو مجھ پر بھی نہیں ہوا تھا۔
2
छोड़ा मह-ए-नख़शब की तरह दस्त-ए-क़ज़ा ने ख़ुर्शीद हुनूज़ उस के बराबर न हुआ था
چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
تقدیر کے ہاتھ نے اسے ماہِ نخشب کی طرح گرا دیا، جبکہ ابھی سورج بھی اس کی برابری نہیں کر پایا تھا۔
3
तौफ़ीक़ ब-अंदाज़ा-ए-हिम्मत है अज़ल से आँखों में है वो क़तरा कि गौहर न हुआ था
توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
ازل سے ہی خدا کی توفیق انسان کی ہمت کے مطابق ملتی ہے؛ آنکھوں میں اب بھی وہی قطرہ باقی ہے جو موتی نہ بن سکا تھا۔
4
जब तक कि न देखा था क़द-ए-यार का आलम मैं मो'तक़िद-ए-फ़ित्ना-ए-महशर न हुआ था
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
جب تک میں نے اپنے محبوب کے قد کا عالم نہیں دیکھا تھا، تب تک مجھے قیامت کے فتنے اور ہنگامے پر یقین نہیں آیا تھا۔
5
मैं सादा-दिल आज़ुर्दगी-ए-यार से ख़ुश हूँ या'नी सबक़-ए-शौक़ मुकर्रर न हुआ था
میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
میں اتنا سادہ دل ہوں کہ اپنے محبوب کی ناراضگی سے بھی خوش ہو رہا ہوں، گویا محبت کا یہ سبق پہلے کبھی دہرایا نہیں گیا تھا۔
6
दरिया-ए-मआसी तुनुक-आबी से हुआ ख़ुश्क मेरा सर-ए-दामन भी अभी तर न हुआ था
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
گناہوں کا دریا پانی کی کمی کے باعث سوکھ گیا، حالانکہ ابھی تو میرے دامن کا کنارہ بھی تر نہیں ہوا تھا۔
7
जारी थी 'असद' दाग़-ए-जिगर से मिरी तहसील आतिश-कदा जागीर-ए-समुंदर न हुआ था
جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
اے اسد! میرے جگر کے داغوں سے میری روزی اس وقت بھی حاصل ہو رہی تھی جب آتش کدہ ابھی سمندر (آگ کے کیڑے) کی جاگیر بھی نہیں بنا تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.