“The river of sins ran dry from sheer lack of water, when even the hem of my robe had not yet grown wet.”
گناہوں کا دریا پانی کی کمی کے باعث سوکھ گیا، حالانکہ ابھی تو میرے دامن کا کنارہ بھی تر نہیں ہوا تھا۔
غالب اس شعر میں اپنی مخصوص شوخی اور رندانہ انداز میں گناہوں کے تئیں اپنی بے پناہ صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گناہوں کا پورا دریا ہی پانی کی کمی سے خشک ہو گیا، حالانکہ ابھی تو میرے دامن کا کونا بھی ٹھیک سے تر نہیں ہو پایا تھا۔ اس ظریفانہ تعلی کے پردے میں دراصل انسانی خواہشات کی وسعت اور اس کائنات کی کم مائیگی کا ایک گہرا فلسفہ چھپا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
