“My livelihood was drawn, O Asad, from the wounds of my heart, before the temple of fire became the salamander's fiefdom.”
اے اسد! میرے جگر کے داغوں سے میری روزی اس وقت بھی حاصل ہو رہی تھی جب آتش کدہ ابھی سمندر (آگ کے کیڑے) کی جاگیر بھی نہیں بنا تھا۔
غالب اس شعر میں اپنے درد اور غم کے رشتے کو بڑی دلفریبی سے پیش کر رہے ہیں۔ وہ افسانوی جانور 'سمندر' کا استعارہ لاتے ہیں جو آگ میں جیتا ہے، اور کہتے ہیں کہ جب آگ کا گھر اس جانور کی جاگیر بھی نہیں بنا تھا، تب سے میرا دانہ پانی میرے دل کے جلتے ہوئے زخموں کے دم سے چل رہا تھا۔ یعنی عشق کی تپش اور سینے کی جلن ان کے لیے کوئی نیا تجربہ نہیں، بلکہ یہی آگ روزِ اول سے ان کی ہستی اور شاعری کی اصل غذا رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
