“Until I beheld the grandeur of my beloved's graceful stature, / I had never believed in the turmoil of Judgment Day.”
جب تک میں نے اپنے محبوب کے قد کا عالم نہیں دیکھا تھا، تب تک مجھے قیامت کے فتنے اور ہنگامے پر یقین نہیں آیا تھا۔
شاعر اپنے محبوب کے دلکش قد و قامت اور سراپے کو قیامت سے تشبیہ دیتے ہوئے بڑی شوخی اور نزاکت سے بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ روزِ جزا کی افراتفری اور فتنوں پر انہیں پہلے کبھی یقین نہیں آتا تھا، لیکن جب محبوب کو سر تا پا دیکھا تو دل میں ایسا طوفان اٹھا کہ محشر کی ساری کیفیت سمجھ میں آ گئی۔ یعنی محبوب کا دلنشین جلوہ ہی دل کی دنیا میں قیامت برپا کرنے کے لیے کافی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
