“Since pre-eternity, divine grace is meted to one's courage; lingering in the eyes is that drop which refused to become a pearl.”
ازل سے ہی خدا کی توفیق انسان کی ہمت کے مطابق ملتی ہے؛ آنکھوں میں اب بھی وہی قطرہ باقی ہے جو موتی نہ بن سکا تھا۔
غالب فرماتے ہیں کہ انسان کو قدرت کی توفیق اور مدد اس کے حوصلے اور ہمت کی وسعت کے مطابق ہی ملتی ہے۔ سیپ میں جا کر موتی بن جانا تو ایک معمولی قطرے کا کام تھا، مگر ہماری آنکھ کے قطرے نے یہ سمجھوتہ گوارا نہ کیا اور موتی بننے سے انکار کر کے آنکھ ہی میں ٹھہر گیا۔ یہ شعر دراصل انسان کی بلند ہمتی، خودداری اور اس درد کی عظمت کا بیان ہے جو دنیاوی کامیابیوں کے تنگ دائروں میں نہیں سماتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
