“You were never a friend to anyone, O cruel beloved; yet such cruelty you inflict upon others now as was never endured by me.”
اے ظالم! تو تو کبھی کسی کا بھی دوست نہ تھا، مگر اب دوسروں پر تو وہ ستم ڈھا رہا ہے جو مجھ پر بھی نہیں ہوا تھا۔
میر تقی میر اس شعر میں ایک گہری اور دل چسپ کیفیت بیان کر رہے ہیں، جہاں عاشق اپنے ستم گر محبوب کی بے وفائی پر حیران بھی ہے اور دکھی بھی۔ عاشق کو ہمیشہ یہ گمان تھا کہ محبوب کی بے رخی اور ستم کی انتہا بس اسی کی ذات تک محدود تھی، کیونکہ وہ کسی کا دوست تو تھا ہی نہیں۔ مگر اب جب وہ دوسروں پر روا رکھے گئے مظالم دیکھتا ہے تو دنگ رہ جاتا ہے کہ محبوب کی بے رحمی تو اس کے اپنے دکھ سے بھی کہیں آگے نکل چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
