غزل
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کرید کرید کے پوچھو
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کرید کرید کے پوچھو
یہ غزل پچھلی شکایات اور دبے ہوئے درد کی اذیت کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعر ماضی کے شکوؤں کو دوبارہ یاد دلانے سے منع کرتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں ایک پوشیدہ اور شدید آگ دبی ہے؛ یہ کلام دکھ کی ایک ایسی گہری کیفیت کو پیش کرتا ہے جو غم کے روایتی اظہار سے ماورا ہے، جہاں نہ صبح کی گریہ ہے اور نہ آدھی رات کی آہ، اور اس انوکھے کرب کو بھی کسی حد تک قیمتی سمجھا جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तुम अपने शिकवे की बातें न खोद खोद के पूछो
हज़र करो मिरे दिल से कि इस में आग दबी है
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
اپنے شکووں کی باتیں کرید کرید کر مت پوچھو۔ میرے دل سے حذر کرو کیونکہ اس میں آگ دبی ہوئی ہے۔
2
दिला ये दर्द-ओ-अलम भी तो मुग़्तनिम है कि आख़िर
न गिर्या-ए-सहरी है न आह-ए-नीम-शबी है
دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
اے دل، یہ درد اور دکھ بھی غنیمت ہے، کیونکہ آخرکار نہ صبح کا رونا ہے اور نہ آدھی رات کی آہ ہے۔
3
नज़र ब-नक़्स-ए-गदायाँ कमाल-ए-बे-अदबी है
कि ख़ार-ए-ख़ुश्क को भी दावा-ए-चमन-नसबी है
نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
فقیروں (یا غریبوں) کی خامیوں پر نظر ڈالنا کمال درجے کی بے ادبی ہے، کیونکہ ایک سوکھا کانٹا بھی اپنے آپ کو باغ سے نسبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
4
हुआ विसाल से शौक़-ए-दिल-ए-हरीस ज़ियादा
लब-ए-क़दह पे कफ़-ए-बादा जोश-ए-तिश्ना-लबी है
ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
ملن سے لالچی دل کی خواہش اور بڑھ گئی؛ پیالے کے ہونٹ پر شراب کا جھاگ پیاس کا جوش ہے۔
5
ख़ुशा वो दिल कि सरापा तिलिस्म-ए-बे-ख़बरी हो
जुनून ओ यास ओ अलम रिज़्क़-ए-मुद्दआ-तलबी है
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
وہ دل خوش بخت ہے جو سراسر بے خبری کا طلسم ہو؛ جنون، یاس اور غم ہی آرزوؤں کی طلب کا رزق ہیں۔
6
चमन में किस के ये बरहम हुइ है बज़्म-ए-तमाशा
कि बर्ग बर्ग-ए-समन शीशा रेज़ा-ए-हलबी है
چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
کہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے
کس کے چمن میں یہ تماشے کی محفل برہم ہو گئی ہے، کہ چنبیلی کا ہر پتا اب حلبی شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں جیسا لگ رہا ہے۔
7
इमाम-ए-ज़ाहिर-ओ-बातिन अमीर-ए-सूरत-ओ-मअनी
'अली' वली असदुल्लाह जानशीन-ए-नबी है
امام ظاہر و باطن امیر صورت و معنی
علیؔ ولی اسداللہ جانشین نبی ہے
علی ظاہر اور باطن کے امام ہیں، صورت اور معنی کے امیر ہیں۔ علی، اللہ کے ولی اور اللہ کے شیر ہیں، اور نبی کے جانشین ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
