Sukhan AI
غزل

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کرید کرید کے پوچھو

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کرید کرید کے پوچھو
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: है

یہ غزل پچھلی شکایات اور دبے ہوئے درد کی اذیت کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعر ماضی کے شکوؤں کو دوبارہ یاد دلانے سے منع کرتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں ایک پوشیدہ اور شدید آگ دبی ہے؛ یہ کلام دکھ کی ایک ایسی گہری کیفیت کو پیش کرتا ہے جو غم کے روایتی اظہار سے ماورا ہے، جہاں نہ صبح کی گریہ ہے اور نہ آدھی رات کی آہ، اور اس انوکھے کرب کو بھی کسی حد تک قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तुम अपने शिकवे की बातें न खोद खोद के पूछो हज़र करो मिरे दिल से कि इस में आग दबी है
اپنے شکووں کی باتیں کرید کرید کر مت پوچھو۔ میرے دل سے حذر کرو کیونکہ اس میں آگ دبی ہوئی ہے۔
2
दिला ये दर्द-ओ-अलम भी तो मुग़्तनिम है कि आख़िर न गिर्या-ए-सहरी है न आह-ए-नीम-शबी है
اے دل، یہ درد اور دکھ بھی غنیمت ہے، کیونکہ آخرکار نہ صبح کا رونا ہے اور نہ آدھی رات کی آہ ہے۔
3
नज़र ब-नक़्स-ए-गदायाँ कमाल-ए-बे-अदबी है कि ख़ार-ए-ख़ुश्क को भी दावा-ए-चमन-नसबी है
فقیروں (یا غریبوں) کی خامیوں پر نظر ڈالنا کمال درجے کی بے ادبی ہے، کیونکہ ایک سوکھا کانٹا بھی اپنے آپ کو باغ سے نسبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
4
हुआ विसाल से शौक़-ए-दिल-ए-हरीस ज़ियादा लब-ए-क़दह पे कफ़-ए-बादा जोश-ए-तिश्ना-लबी है
ملن سے لالچی دل کی خواہش اور بڑھ گئی؛ پیالے کے ہونٹ پر شراب کا جھاگ پیاس کا جوش ہے۔
5
ख़ुशा वो दिल कि सरापा तिलिस्म-ए-बे-ख़बरी हो जुनून ओ यास ओ अलम रिज़्क़-ए-मुद्दआ-तलबी है
وہ دل خوش بخت ہے جو سراسر بے خبری کا طلسم ہو؛ جنون، یاس اور غم ہی آرزوؤں کی طلب کا رزق ہیں۔
6
चमन में किस के ये बरहम हुइ है बज़्म-ए-तमाशा कि बर्ग बर्ग-ए-समन शीशा रेज़ा-ए-हलबी है
کس کے چمن میں یہ تماشے کی محفل برہم ہو گئی ہے، کہ چنبیلی کا ہر پتا اب حلبی شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں جیسا لگ رہا ہے۔
7
इमाम-ए-ज़ाहिर-ओ-बातिन अमीर-ए-सूरत-ओ-मअनी 'अली' वली असदुल्लाह जानशीन-ए-नबी है
علی ظاہر اور باطن کے امام ہیں، صورت اور معنی کے امیر ہیں۔ علی، اللہ کے ولی اور اللہ کے شیر ہیں، اور نبی کے جانشین ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.