नज़र ब-नक़्स-ए-गदायाँ कमाल-ए-बे-अदबी है
कि ख़ार-ए-ख़ुश्क को भी दावा-ए-चमन-नसबी है
“To note the beggars' flaws is the height of discourtesy,For even a dry thorn claims its garden ancestry.”
— مرزا غالب
معنی
فقیروں (یا غریبوں) کی خامیوں پر نظر ڈالنا کمال درجے کی بے ادبی ہے، کیونکہ ایک سوکھا کانٹا بھی اپنے آپ کو باغ سے نسبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
تشریح
غالب یہاں ہمیں بہت گہری بات سمجھا رہے ہیں، دوست۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی غریب یا ضرورتمند کی کمیاں ڈھونڈنا بہت بڑی بے ادبی ہے۔ سوچو، ایک سوکھا کانٹا بھی تو اپنے آپ کو باغ سے جڑا ہوا مانتا ہے؛ اُسے بھی تو چمن سے رشتے کا دعویٰ ہے۔ تو جب ایک بے جان کانٹا بھی اپنا احترام رکھتا ہے، تو کسی انسان کی نکتہ چینی کرنا کتنی غلط بات ہے۔
مشکل الفاظ
ब-नक़्स-ए— upon the flaw or defect of
गदायाँ— of beggars, of paupers
बे-अदबी— disrespect, impertinence
ख़ार-ए-ख़ुश्क— dry thorn
चमन-नसबी— claim of garden lineage/descent; claim of noble origin
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
