“To note the beggars' flaws is the height of discourtesy,For even a dry thorn claims its garden ancestry.”
فقیروں (یا غریبوں) کی خامیوں پر نظر ڈالنا کمال درجے کی بے ادبی ہے، کیونکہ ایک سوکھا کانٹا بھی اپنے آپ کو باغ سے نسبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
غالب یہاں ہمیں بہت گہری بات سمجھا رہے ہیں، دوست۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی غریب یا ضرورتمند کی کمیاں ڈھونڈنا بہت بڑی بے ادبی ہے۔ سوچو، ایک سوکھا کانٹا بھی تو اپنے آپ کو باغ سے جڑا ہوا مانتا ہے؛ اُسے بھی تو چمن سے رشتے کا دعویٰ ہے۔ تو جب ایک بے جان کانٹا بھی اپنا احترام رکھتا ہے، تو کسی انسان کی نکتہ چینی کرنا کتنی غلط بات ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
