“In whose garden has this spectacle's assembly been disrupted, That every jasmine petal now appears as shattered Halabi glass?”
کس کے چمن میں یہ تماشے کی محفل برہم ہو گئی ہے، کہ چنبیلی کا ہر پتا اب حلبی شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں جیسا لگ رہا ہے۔
یہ شعر پوچھ رہا ہے کہ کس کے چمن میں وہ رونق والی محفل ٹوٹ کر بکھر گئی ہے۔ شاعر کو چمیلی کی ہر نازک پتی، شام کے حلب شہر کے اُس مشہور اور بے حد نازک شیشے کے ٹکڑے جیسی لگ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی حسین جشن کو اتنی بے رحمی سے تِتّر بِتّر کر دیا گیا ہو کہ اب خوبصورتی بھی ٹوٹے ہوئے کانچ سی چبھنے لگی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
