“The greedy heart's desire by union only grew, The wine's foam on the cup's rim is thirst's fierce passion, true.”
ملن سے لالچی دل کی خواہش اور بڑھ گئی؛ پیالے کے ہونٹ پر شراب کا جھاگ پیاس کا جوش ہے۔
غالب اس شعر میں دل کی عجیب پیاس کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب لالچی دل کو اس کی مراد حاصل ہو جاتی ہے، تو اس کی خواہش کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے جام کے لب پر جو شراب کی کف نظر آتی ہے، وہ دراصل پینے والے کی شدید تشنہ لبی کا ہی جوش ہے، جو ابھی جام ہونٹوں تک پہنچا بھی نہیں اور پیاس پہلے ہی بے تاب ہو کر امڈ پڑی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
