غزل
شب کہ وہ مجلس افروزِ خلوتِ ناموس تھا
شب کہ وہ مجلس افروزِ خلوتِ ناموس تھا
یہ غزل ادھوری محبت اور بے پناہ آرزو کے گہرے غم کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ یہ ایک ایسے عاشق کی تصویر کشی کرتی ہے جس کی خواہشات موت کے بعد بھی ٹوٹے رہتی ہیں، اور محبت کا انجام صرف گہرا افسوس ہے۔ شاعر ایک خود ساختہ غم کا اظہار کرتا ہے، جہاں دل کا خون بغیر کسی بیرونی تسلی کے پیا جاتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
शब कि वो मजलिस-फ़रोज़-ए-ख़ल्वत-ए-नामूस था
रिश्ता-ए-हर-शम'अ ख़ार-ए-किस्वत-ए-फ़ानूस था
اس رات جب وہ پردہ عصمت کی خلوت کو روشن کر رہا تھا، ہر شمع کا رشتہ فانوس کے لباس میں کانٹا بن گیا تھا۔
2
मशहद-ए-आशिक़ से कोसों तक जो उगती है हिना
किस क़दर या-रब हलाक-ए-हसरत-ए-पा-बोस था
عاشق کی قبر سے کوسوں تک جو مہندی اُگتی ہے، اے رب، یہ ظاہر کرتا ہے کہ کتنے لوگ محبوب کے قدم چومنے کی حسرت میں ہلاک ہوئے تھے۔
3
हासिल-ए-उल्फ़त न देखा जुज़-शिकस्त-ए-आरज़ू
दिल-ब-दिल पैवस्ता गोया यक लब-ए-अफ़्सोस था
میں نے محبت کا حاصل خواہشوں کے ٹوٹنے کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ دل سے دل جڑے ہونے پر بھی گویا ایک ہی لبِ افسوس تھا۔
4
क्या कहूँ बीमारी-ए-ग़म की फ़राग़त का बयाँ
जो कि खाया ख़ून-ए-दिल बे-मिन्नत-ए-कैमूस था
میں اپنے غم کی بیماری کی فراغت کا کیا بیان کروں؟ میں نے اپنے دل کا خون پیا، کسی طبیب کی محتاجی کے بغیر۔
5
बुत-परस्ती है बहार-ए-नक़्श-बंदी-हा-ए-दह्र
हर सरीर-ए-ख़ामा में यक नाला-ए-नाक़ूस था
بت پرستی دنیا کی نقش بندیوں اور تخلیقات کی بہار ہے۔ ہر قلم کی سرسراہٹ میں ایک ناقوس کا نالہ شامل تھا۔
6
तब' की वाशुद ने रंग-ए-यक-गुलिस्ताँ गुल किया
ये दिल-ए-वाबस्ता गोया बैज़ा-ए-ताऊस था
میری طبیعت کے کھلنے نے ایک پورے گلستاں کے رنگ کو بجھا دیا۔ میرا یہ وابستہ دل گویا مور کا انڈا تھا، جس میں چھپی ہوئی صلاحیت یا خوبصورتی تھی۔
7
कल 'असद' को हम ने देखा गोशा-ए-ग़म-ख़ाना में
दस्त-बरसर सर-ब-ज़ानू-ए-दिल-ए-मायूस था
کل ہم نے اسد کو غم کے گھر کے ایک کونے میں دیکھا۔ وہ اپنا ہاتھ سر پر رکھے، اپنا سر ایک مایوس دل کے گھٹنے پر رکھے بیٹھا تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
