غزل

شب خمارِ شوقِ ساقی رستاخیز اندازہ تھا

شب خمارِ شوقِ ساقی رستاخیز اندازہ تھا
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: था

یہ غزل ساقی کے لیے ایک غیرمعمولی اور قیامت خیز پیاس کو پیش کرتی ہے، جہاں جنون کا ایک قدم کائنات کے اسرار کھول دیتا ہے۔ اس میں لیلیٰ-مجنوں کی اٹوٹ محبت کی طرح بے حد عشق کی بات کی گئی ہے، اور خوبصورتی کے اندازِ استغنا پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
शब ख़ुमार-ए-शौक़-ए-साक़ी रुस्तख़ेज़-अंदाज़ा था ता-मुहीत-ए-बादा सूरत ख़ाना-ए-ख़म्याज़ा था
شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
شَب، ساقی کی چاہت کا نشہ قیامت کے انداز کا تھا۔ شراب کا پورا پھیلاؤ ایک لامتناہی خمیازے کا گھر تھا، جو شدید اور بے پایاں تھکاوٹ کی نشاندہی کرتا تھا۔
2
यक क़दम वहशत से दर्स-ए-दफ़्तर-ए-इम्काँ खुला जादा अजज़ा-ए-दो-आलम दश्त का शीराज़ा था
یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
ایک قدم وحشت سے امکانات کی کتاب کا سبق کھل گیا۔ یہ راستہ دونوں جہانوں کے بکھرے ہوئے اجزاء پر مشتمل تھا، جو دشت کا شیرازہ تھا۔
3
माना-ए-वहशत-ख़िरामी-हा-ए-लैला कौन है ख़ाना-ए-मजनून-ए-सहरा-गर्द बे-दरवाज़ा था
مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا
لیلیٰ کی وحشت خیز چالوں کو کون روک سکتا ہے؟ صحرا گرد مجنوں کا گھر تو بے دروازہ تھا، یعنی اس کی آمد میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔
4
पूछ मत रुस्वाई-ए-अंदाज़-ए-इस्तिग़ना-ए-हुस्न दस्त मरहून-ए-हिना रुख़्सार रहन-ए-ग़ाज़ा था
پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسن دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا
پوچھ مت حسن کے بے پروا انداز کی رسوائی کے بارے میں۔ اس کے ہاتھ مہندی کے مرہون تھے اور رخسار غازے کے رہن تھے۔
5
नाला-ए-दिल ने दिए औराक़-ए-लख़्त-ए-दिल ब-बाद याद-गार-ए-नाला इक दीवान-ए-बे-शीराज़ा था
نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا
نالۂ دل نے دل کے ٹکڑوں کے اوراق کو ہوا میں بکھیر دیا۔ اُس نالے کی واحد یادگار ایک بے شیرازہ دیوان تھی۔
6
हूँ चराग़ान-ए-हवस जूँ काग़ज़-ए-आतिश-ज़दा दाग़ गर्म-ए-कोशिश-ए-ईजाद-ए-दाग़-ए-ताज़ा था
ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہ داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
میں جلتے ہوئے کاغذ کی طرح ہوس کا ایک چراغاں ہوں۔ میرے داغ (نشان) نئے داغ بنانے کی کوشش میں گرم تھے۔
7
बे-नवाई तर सदा-ए-नग़्मा-ए-शोहरत 'असद' बोरिया यक नीस्ताँ-आलम बुलंद आवाज़ा था
بے نوائی تر صداۓ نغمۂ شہرت اسدؔ بوریا یک نیستاں عالم بلند آوازہ تھا
اے اسد، میری بے نوائی شہرت کے نغمے کی صدا سے زیادہ گہری ہے؛ میری حقیر بوریا کی آواز ایک پورے نیستاں کی طرح بلند تھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.