غزل
قطرہء مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
قطرہء مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
یہ غزل عشق کی بے جا تکلیف کو مؤثر طریقے سے بیان کرتی ہے، جہاں عاشق کو دوسروں کی خطاؤں کے لیے بھی محبوب کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ دولت کے بدنام کن اثرات اور شراب کے ایک قطرے کی حیرت انگیز تبدیلی پر بھی روشنی ڈالتی ہے، جو نشے کے لمحوں کی عارضی مسرت کے برعکس ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क़तरा-ए-मय बस-कि हैरत से नफ़स-परवर हुआ
ख़त्त-ए-जाम-ए-मै सरासर रिश्ता-ए-गौहर हुआ
شراب کا قطرہ حیرت سے اس قدر سانس روکے ہوئے تھا کہ شراب کے جام کا سارا کنارہ موتیوں کی لڑی بن گیا۔
2
ए'तिबार-ए-इश्क़ की ख़ाना-ख़राबी देखना
ग़ैर ने की आह लेकिन वो ख़फ़ा मुझ पर हुआ
محبوب پر اعتبار کرنے کی تباہی دیکھیے: رقیب نے آہ بھری، مگر محبوب مجھ پر خفا ہوا۔
3
गरमी-ए-दौलत हुइ आतिश-ज़न-ए-नाम-ए-निको
ख़ाना-ए-ख़ातिम में याक़ूत-ए-नगीं अख़्तर हुआ
دولت کی گرمی نیک نامی کو جلانے والی بنی۔ انگوٹھی کے نگینے میں یاقوت ایک ستارے میں بدل گیا۔
4
नश्शा में गुम-कर्दा-राह आया वो मस्त-ए-फ़ित्ना-ख़ू
आज रंग-रफ़्ता दौर-ए-गर्दिश-ए-साग़र हुआ
وہ فتنہ خُو شرابی، نشے میں اپنی راہ بھٹک کر آیا۔ آج، گردشِ ساغر کے دور کی رونق جاتی رہی۔
5
दर्द से दर-पर्दा दी मिज़्गाँ-सियाहाँ ने शिकस्त
रेज़ा रेज़ा उस्तुख़्वाँ का पोस्त में नश्तर हुआ
درد سے سیاہ پلکوں والوں نے پردہ پوشی میں شکست دی۔ میری ہر ہڈی کا ٹکڑا جلد میں نشتر کی طرح چبھنے لگا۔
6
ज़ोहद गरदीदन है गर्द-ए-ख़ाना-हा-ए-मुनइमाँ
दाना-ए-तस्बीह से मैं मोहरा-दर-शश्दर हुआ
اب زُہد صرف امیروں کے گھروں کی گرد میں گھومنا بن گیا ہے۔ تسبیح کے دانے نے ہی مجھے ایک ایسی چھہ طرفہ اُلجھن میں پھنسا دیا ہے۔
7
ऐ ब-ज़ब्त-ए-हाल-ए-ना-अफ़्सुर्दागाँ जोश-ए-जुनूँ
नश्शा-ए-मय है अगर यक-पर्दा नाज़ुक-तर हुआ
اے جنون کے جوش، جو ناافسردہ لوگوں کی ضبطِ حال میں موجود ہے۔ یہ شراب کا نشہ ہی ہے، اگر وہ ایک پردہ مزید نازک ہو جائے۔
8
इस चमन में रेशा-दारी जिस ने सर खेंचा 'असद'
तर ज़बान-ए-लुत्फ़-ए-आम-ए-साक़ी-ए-कौसर हुआ
اس دنیاوی باغ میں، اے اسد، جس نے دنیاوی تعلقات سے اپنا سر کھینچ لیا، اس کی زبان ساقیِ کوثر کے عام لطف سے تر ہو گئی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
