Sukhan AI
غزل

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: का

یہ غزل زندگی کی گہری اور اکثر دردناک حقیقتوں کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر تصویر ایک فریاد ہے۔ یہ تنہائی اور سخت جانی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ بے اختیار شوق کی قوت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ غالب کا کہنا ہے کہ ان کے کلام کا حقیقی مفہوم، افسانوی عنقا کی طرح، عام فہم سے بالا اور سمجھ سے پرے ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
नक़्श फ़रियादी है किस की शोख़ी-ए-तहरीर का काग़ज़ी है पैरहन हर पैकर-ए-तस्वीर का
نقش کس کی شوخیِ تحریر کا فریادی ہے، کیونکہ ہر تصویر کا پیکر کاغذی پیرہن میں ہے۔
2
काव काव-ए-सख़्त-जानी हाए-तन्हाई न पूछ सुब्ह करना शाम का लाना है जू-ए-शीर का
اکیلے پن میں زندگی کی سخت جانی کی اذیت نہ پوچھو۔ شام کو صبح کرنا، یعنی رات گزارنا، دودھ کی نہر لانے جتنا مشکل ہے۔
3
जज़्बा-ए-बे-इख़्तियार-ए-शौक़ देखा चाहिए सीना-ए-शमशीर से बाहर है दम शमशीर का
اس بے اختیار شوق کے جذبے کو دیکھنا چاہیے؛ تلوار کا دم اس کی میان کے سینے سے باہر ہے۔
4
आगही दाम-ए-शुनीदन जिस क़दर चाहे बिछाए मुद्दआ अन्क़ा है अपने आलम-ए-तक़रीर का
آگہی سننے کا جال جتنا چاہے پھیلائے، میری تقریر کی دنیا کا اصل مقصد عنقا پرندے کی طرح نایاب اور ناقابلِ حصول ہے۔
5
बस-कि हूँ 'ग़ालिब' असीरी में भी आतिश ज़ेर-ए-पा मू-ए-आतिश दीदा है हल्क़ा मिरी ज़ंजीर का
بس کہ میں غالب ہوں، قید میں بھی میرے پیروں تلے آگ ہے۔ میری زنجیر کے حلقے آگ سے جُھلسے ہوئے بالوں کی مانند ہیں۔
6
आतिशीं-पा हूँ गुदाज़-ए-वहशत-ए-ज़िन्दाँ न पूछ मू-ए-आतिश दीदा है हर हल्क़ा याँ ज़ंजीर का
میں آتشیں پا ہوں، مجھ سے قید خانے کی دہشت کے پگھلنے کے بارے میں نہ پوچھو۔ یہاں زنجیر کا ہر حلقہ آگ دیکھے ہوئے بال کی طرح ہے۔
7
शोख़ी-ए-नैरंग सैद-ए-वहशत-ए-ताऊस है दाम-ए-सब्ज़ा में है परवाज़-ए-चमन तस्ख़ीर का
فریب کی شوخی مور کی وحشی فطرت کا شکار ہے۔ چمن کی پرواز اپنی ہی سبزی کے جال میں قید ہے، جو اس کی تسخیر کے لیے ہے۔
8
लज़्ज़त-ए-ईजाद-ए-नाज़ अफ़सून-ए-अर्ज़-ज़ौक़-ए-क़त्ल ना'ल आतिश में है तेग़-ए-यार से नख़चीर का
ناز ایجاد کرنے کی لذت 'قتل' کے سنسنی خیز ذوق کو ظاہر کرنے والا ایک افسوں ہے۔ محبوب کی تلوار سے شکار کا نعل (کُھر) آگ میں ہے، جو اس کی شدید مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔
9
ख़िश्त पुश्त-ए-दस्त-ए-इज्ज़ ओ क़ालिब आग़ोश-ए-विदा'अ पुर हुआ है सैल से पैमाना किस ता'मीर का
اینٹیں بے بسی کے ہاتھوں شکست خوردہ پڑی ہیں اور سانچے الوداعی آغوش میں ہیں۔ کس تعمیر کا پیمانہ سیلاب سے بھر گیا ہے؟
10
वहशत-ए-ख़्वाब-ए-अदम शोर-ए-तमाशा है 'असद' जो मज़ा जौहर नहीं आईना-ए-ताबीर का
اسد، عدم کے خواب کا خوف ایک شور مچانے والا تماشا ہے؛ اس کی کشش تعبیر کے آئینے کا حقیقی جوہر نہیں ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.