लज़्ज़त-ए-ईजाद-ए-नाज़ अफ़सून-ए-अर्ज़-ज़ौक़-ए-क़त्ल
ना'ल आतिश में है तेग़-ए-यार से नख़चीर का
“The joy of inventing coyness, a charm expressing taste for slaughter's thrill,The prey's hoof is ablaze by the beloved's sword, showing her fierce will.”
— مرزا غالب
معنی
ناز ایجاد کرنے کی لذت 'قتل' کے سنسنی خیز ذوق کو ظاہر کرنے والا ایک افسوں ہے۔ محبوب کی تلوار سے شکار کا نعل (کُھر) آگ میں ہے، جو اس کی شدید مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
