Sukhan AI
غزل

مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کیے ہوئے

مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کیے ہوئے
مرزا غالب· Ghazal· 17 shers· radif: हुए

یہ غزل محبوب سے طویل جدائی کے گہرے فراق اور دائمی درد کو بھرپور طریقے سے پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے لخت لخت جگر کو پھر سے جمع کرنے کے کربناک عمل کو بیان کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آنسو بہائے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا ہے، جو ایک گہرے، شاید تھکے ہوئے، غم کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ نامکمل حسرت اور طویل مصیبت کے دوران جذباتی لچک کا ایک دلگداز احساس پیش کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मुद्दत हुई है यार को मेहमाँ किए हुए जोश-ए-क़दह से बज़्म चराग़ाँ किए हुए
مجھے اپنے محبوب کو مہمان بنائے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ہے۔ محفل شراب کے پیالوں کے جوش سے چراغاں ہو گئی تھی، گویا دیوں سے سجی ہو۔
2
करता हूँ जम्अ' फिर जिगर-ए-लख़्त-लख़्त को अर्सा हुआ है दावत-ए-मिज़्गाँ किए हुए
میں اپنے ٹکڑے ٹکڑے دل کو پھر سے جمع کر رہا ہوں۔ ایک عرصہ ہو گیا ہے جب میں نے اسے مژگاں (یعنی محبوب کی تیز نگاہوں) کی دعوت دی تھی۔
3
फिर वज़'-ए-एहतियात से रुकने लगा है दम बरसों हुए हैं चाक गरेबाँ किए हुए
پھر سے احتیاط کے انداز سے میرا دم گھٹنے لگا ہے۔ برسوں ہو گئے ہیں جب سے میں نے اپنا گریبان چاک کیا ہے۔
4
फिर गर्म-नाला-हा-ए-शरर-बार है नफ़स मुद्दत हुई है सैर-ए-चराग़ाँ किए हुए
پھر میرا سانس شرارے برسانے والی گرم آہیں بن گیا ہے۔ مجھے چراغاں کی سیر کیے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ہے۔
5
फिर पुर्सिश-ए-जराहत-ए-दिल को चला है इश्क़ सामान-ए-सद-हज़ार नमक-दाँ किए हुए
پھر سے عشق دل کے زخم کا حال پوچھنے نکلا ہے، اپنے ساتھ سینکڑوں ہزاروں نمکدان لیے ہوئے ہے۔
6
फिर भर रहा हूँ ख़ामा-ए-मिज़्गाँ ब-ख़ून-ए-दिल साज़-ए-चमन तराज़ी-ए-दामाँ किए हुए
میں پھر سے اپنی پلکوں کی قلم کو دل کے خون سے بھر رہا ہوں، اور اس دوران چمن کی سجاوٹ کو اپنے دامن میں سمیٹ رہا ہوں۔
7
बाहम-दिगर हुए हैं दिल ओ दीदा फिर रक़ीब नज़्ज़ारा ओ ख़याल का सामाँ किए हुए
دل اور آنکھ پھر سے ایک دوسرے کے حریف بن گئے ہیں، جنہوں نے نظارے اور خیال کا انتظام کر لیا ہے۔
8
दिल फिर तवाफ़-ए-कू-ए-मलामत को जाए है पिंदार का सनम-कदा वीराँ किए हुए
میرا دل پھر ملامت کی گلی کی طرف جا رہا ہے، اپنے غرور کے بت خانے کو ویران کیے ہوئے۔
9
फिर शौक़ कर रहा है ख़रीदार की तलब अर्ज़-ए-मता-ए-अक़्ल-ओ-दिल-ओ-जाँ किए हुए
ایک بار پھر میرا شوق (جذبہ) کسی خریدار کو طلب کر رہا ہے، جس نے اپنی عقل، دل اور جان کا سامان پیش کیا ہوا ہے۔
10
दौड़े है फिर हर एक गुल-ओ-लाला पर ख़याल सद-गुलसिताँ निगाह का सामाँ किए हुए
میرا خیال پھر سے ہر گل اور لعل پر دوڑتا ہے، جیسے نگاہ نے سو گلستانوں کو اپنا سامان بنا رکھا ہو۔
11
फिर चाहता हूँ नामा-ए-दिलदार खोलना जाँ नज़्र-ए-दिल-फ़रेबी-ए-उनवाँ किए हुए
پھر میں دلدار کا خط کھولنا چاہتا ہوں، اپنی جان اس کے عنوان کی دلفریب خوبصورتی پر قربان کیے ہوئے۔
12
माँगे है फिर किसी को लब-ए-बाम पर हवस ज़ुल्फ़-ए-सियाह रुख़ पे परेशाँ किए हुए
حوس پھر کسی کو چھت کے کنارے پر بلا رہی ہے، جس کے چہرے پر سیاہ زلفیں پریشان بکھری ہوئی ہیں۔
13
चाहे है फिर किसी को मुक़ाबिल में आरज़ू सुरमे से तेज़ दश्ना-ए-मिज़्गाँ किए हुए
آرزو پھر کسی کو اپنے مقابل چاہتی ہے، اپنی پلکوں کی خنجر کو سرمے سے تیز کیے ہوئے۔
14
इक नौ-बहार-ए-नाज़ को ताके है फिर निगाह चेहरा फ़रोग़-ए-मय से गुलिस्ताँ किए हुए
میری نگاہ پھر ایک نئی ناز کی بہار کو دیکھ رہی ہے، جس کا چہرہ شراب کی چمک سے باغ بنا ہوا ہے۔
15
फिर जी में है कि दर पे किसी के पड़े रहें सर ज़ेर-बार-ए-मिन्नत-ए-दरबाँ किए हुए
پھر میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ میں کسی کے دروازے پر پڑا رہوں، اور میرا سر دربان کے احسان کے بوجھ تلے دبا رہے تاکہ وہ مجھے وہاں رہنے کی اجازت دے۔
16
जी ढूँडता है फिर वही फ़ुर्सत कि रात दिन बैठे रहें तसव्वुर-ए-जानाँ किए हुए
میرا دل پھر وہی فرصت ڈھونڈتا ہے کہ دن رات بیٹھے ہوئے ہم اپنے جاناں کے تصور میں کھوئے رہیں۔
17
'ग़ालिब' हमें न छेड़ कि फिर जोश-ए-अश्क से बैठे हैं हम तहय्या-ए-तूफ़ाँ किए हुए
غالب، ہمیں مت چھیڑو کیونکہ آنسوؤں کے دوبارہ امڈتے ہوئے جوش کے ساتھ ہم طوفان لانے کی تیاری کیے بیٹھے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کیے ہوئے | Sukhan AI