غزل
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
اس غزل میں مرزا غالب محبوب کے حضور اپنی وفاداری اور خودداری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ گزرا ہوا وقت نہیں جو بلانے پر واپس نہ آ سکیں۔ کلام میں ناتوانی کے احساس، رقیبوں کے طعنوں اور دردِ دل کو کمال ضبط، بے باکی اور شعری وقار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
मेहरबाँ हो के बुला लो मुझे चाहो जिस वक़्त
मैं गया वक़्त नहीं हूँ कि फिर आ भी न सकूँ
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
آپ جب چاہیں مہربانی فرما کر مجھے بلا لیں؛ میں گزرا ہوا وقت نہیں ہوں کہ واپس نہ آ سکوں۔
2
ज़ोफ़ में ताना-ए-अग़्यार का शिकवा क्या है
बात कुछ सर तो नहीं है कि उठा भी न सकूँ
ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
کمزوری کی حالت میں غیروں کے طعنوں کا کیا گلہ کرنا؟ بات کوئی سر تو نہیں ہے کہ میں اسے اٹھا یا برداشت بھی نہ کر سکوں۔
3
ज़हर मिलता ही नहीं मुझ को सितमगर वर्ना
क्या क़सम है तिरे मिलने की कि खा भी न सकूँ
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
اے ستم گر! مجھے زہر ہی نہیں ملتا ورنہ کیا تجھ سے ملنے کی قسم ایسی ہے جسے میں کھا بھی نہ سکوں؟
4
इस क़दर ज़ब्त कहाँ है कभी आ भी न सकूँ
सितम इतना तो न कीजे कि उठा भी न सकूँ
اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
مجھ میں اتنا صبر کہاں کہ میں کبھی آپ کے پاس آ بھی نہ سکوں۔ مجھ پر اتنا ظلم نہ کیجیے کہ میں اسے برداشت ہی نہ کر سکوں۔
5
लग गई आग अगर घर को तो अंदेशा क्या
शो'ला-ए-दिल तो नहीं है कि बुझा भी न सकूँ
لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
اگر گھر کو آگ لگ بھی گئی ہے تو کیا خوف یا فکر ہے؟ یہ کوئی دل کا شعلہ تو نہیں کہ جسے میں بجھا بھی نہ سکوں۔
6
तुम न आओगे तो मरने की हैं सौ तदबीरें
मौत कुछ तुम तो नहीं हो कि बुला भी न सकूँ
تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
اگر تم نہیں آؤ گے تو مرنے کے سو طریقے ہیں، موت تمہاری طرح تو نہیں ہے جسے میں بلا بھی نہ سکوں۔
7
हँस के बुलवाइए मिट जाएगा सब दिल का गिला
क्या तसव्वुर है तुम्हारा कि मिटा भी न सकूँ
ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
اگر آپ مسکرا کر بلا لیں تو دل کی ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی، مگر آپ کا یہ کیسا خیال ہے جسے میں مٹا بھی نہیں سکتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
