“Why complain in my frail state of the rivals' mocking tone? Words are not a heavy head that I cannot bear to raise.”
کمزوری کی حالت میں غیروں کے طعنوں کا کیا گلہ کرنا؟ بات کوئی سر تو نہیں ہے کہ میں اسے اٹھا یا برداشت بھی نہ کر سکوں۔
اس شعر میں شاعر جسمانی کمزوری کے عالم میں بھی کمال درجے کی خودداری اور صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نقاہت میں غیروں کے طعنوں کا کیا شکوہ کرنا، ان کی تلخ باتیں کوئی بھاری سر یا بوجھ تو نہیں ہیں جنہیں برداشت نہ کیا جا سکے۔ لفظ 'اٹھانا' کی لطیف رعایت سے شاعر یہ سمجھاتا ہے کہ جسم کتنا ہی ناتواں کیوں نہ ہو جائے، انسان کا ضبط اور باوقار رویہ لوگوں کی کڑوی باتوں کو خندہ پیشانی سے سہنے کی پوری قوت رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
