“Poison is simply nowhere to be found, O cruel tormentor, or else / is an oath upon our meeting so impossible a thing that I could not even swallow it?”
اے ستم گر! مجھے زہر ہی نہیں ملتا ورنہ کیا تجھ سے ملنے کی قسم ایسی ہے جسے میں کھا بھی نہ سکوں؟
شاعر نے یہاں ’زہر کھانے‘ اور ’قسم کھانے‘ کے محاوراتی ربط کو بڑے خوبصورت اور کاٹ دار انداز میں برتا ہے۔ وہ اپنے بے پروا محبوب سے کہتا ہے کہ مجھے تو بس زہر نہیں مل رہا ورنہ میں کب کا جان دے دیتا، بھلا یہ تم سے وصال کی کوئی ایسی ناممکن قسم تو نہیں جسے نبھایا یا کھایا نہ جا سکے۔ بظاہر شوخی اور طنز لیے اس شعر کی تہہ میں ہجر کا وہ گہرا کرب چھپا ہے، جہاں خودکشی کرنا محبوب کے ملنے کی امید سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
