“How could I have such restraint that I never even visit your door? / Inflict not such cruelty upon me that I can endure no more.”
مجھ میں اتنا صبر کہاں کہ میں کبھی آپ کے پاس آ بھی نہ سکوں۔ مجھ پر اتنا ظلم نہ کیجیے کہ میں اسے برداشت ہی نہ کر سکوں۔
اس شعر میں عاشق اپنے دل کی بے بسی اور انسانی برداشت کی حدوں کو بڑی دل سوزی سے بیان کر رہا ہے۔ وہ اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ مجھ میں اتنا ضبط تو نہیں کہ تم سے ملنے کی تڑپ کو دبا سکوں، لیکن تم بھی مجھ پر اس قدر ستم نہ ڈھاؤ جس کا بوجھ میرا دل برداشت ہی نہ کر پائے۔ یہ شعر محبت کے اس نازک موڑ کی عکاسی کرتا ہے جہاں نہ تو محبوب سے دوری ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی بے رخی سہنا آسان ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
