لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں

“What cause for dread is there if fire has consumed my house? It is not the flame of the heart, that I cannot even quench it.”

— مرزا غالب
معنی

اگر گھر کو آگ لگ بھی گئی ہے تو کیا خوف یا فکر ہے؟ یہ کوئی دل کا شعلہ تو نہیں کہ جسے میں بجھا بھی نہ سکوں۔

تشریح

شاعر یہاں دنیاوی نقصان اور دل کے باطنی کرب کا موازنہ بڑے دل نشین انداز میں کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اینٹ اور گارے کے بنے گھر کا جل جانا کوئی بڑا سانحہ نہیں، کیونکہ ایسی آگ پر تو پانی ڈال کر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اصل بے بسی تو دل میں بھڑکتے عشق اور غم کے اس شعلے کی ہے، جسے چاہ کر بھی کبھی بجھایا نہیں جا سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.