ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں

“Call me over with a smile, and every grievance of the heart will fade away; yet what an image of yours is this, that I cannot even efface?”

— مرزا غالب
معنی

اگر آپ مسکرا کر بلا لیں تو دل کی ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی، مگر آپ کا یہ کیسا خیال ہے جسے میں مٹا بھی نہیں سکتا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کی نازک کیفیات اور بے بسی کو بڑی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دل میں چھپے سارے شکوے محبوب کی صرف ایک پیار بھری مسکراہٹ اور پکار سے پل بھر میں مٹ سکتے ہیں۔ مگر لطف دیکھیے کہ شکوے تو ایک پل میں مٹ جاتے ہیں، لیکن دل و دماغ پر چھایا محبوب کا تصور اتنا گہرا اور پختہ ہے کہ اسے چاہ کر بھی کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.