Sukhan AI
غزل

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: का

یہ غزل، جس کا عنوان "محرَم نہیں ہے تو ہی نَوا ہائے راز کا" ہے، چھپے ہوئے رازوں اور جذبات کے انکشاف کو بیان کرتی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جو کچھ بھی پردے میں لگتا ہے، وہ اکثر ایک گہری، فنکارانہ اظہار کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ لمحوں کی نازک، عارضی خوبصورتی کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے اور ایک ایسے عاشق کے کرب کو دکھاتی ہے جس کا شدید درد ضبطِ نفس سے بمشکل روکا گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
महरम नहीं है तू ही नवा-हा-ए-राज़ का याँ वर्ना जो हिजाब है पर्दा है साज़ का
تُو ہی راز کے نغموں کا محرم نہیں ہے۔ ورنہ یہاں، جو کچھ بھی حجاب ہے، وہ دراصل ساز کا پردہ (فریٹ) ہی ہے۔
3
तू और सू-ए-ग़ैर नज़र-हा-ए-तेज़ तेज़ मैं और दुख तिरी मिज़ा-हा-ए-दराज़ का
تُو دوسروں کی جانب تیز اور لپکتی نظروں سے دیکھتا ہے، اور میں تیری دراز پلکوں کے غم میں گرفتار ہوں۔
4
सर्फ़ा है ज़ब्त-ए-आह में मेरा वगर्ना में तोमा हूँ एक ही नफ़स-ए-जाँ-गुदाज़ का
میرا فائدہ اپنی آہوں کو دبانے میں ہے، ورنہ میں ایک ہی جان گداز سانس کا شکار ہوں۔
5
हैं बस-कि जोश-ए-बादा से शीशे उछल रहे हर गोशा-ए-बिसात है सर शीशा-बाज़ का
شراب کے جوش سے شیشے اچھل رہے ہیں کہ محفل کا ہر کونا گویا شراب پلانے والے کا مرکزی مقام بن گیا ہے۔
6
काविश का दिल करे है तक़ाज़ा कि है हुनूज़ नाख़ुन पे क़र्ज़ इस गिरह-ए-नीम-बाज़ का
میرا دل ابھی بھی کاوش کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ اس نیم وا گره کا قرض ابھی ناخنوں پر باقی ہے۔
7
ताराज-ए-काविश-ए-ग़म-ए-हिज्राँ हुआ 'असद' सीना कि था दफ़ीना गुहर-हा-ए-राज़ का
اسد میرا سینہ، جو رازوں کے موتیوں کا خزانہ تھا، غمِ ہجراں کی کاوش سے لوٹ لیا گیا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.