غزل
کیوں نہ ہو چشمِ بتاں محوِ تغافل کیوں نہ ہو
کیوں نہ ہو چشمِ بتاں محوِ تغافل کیوں نہ ہو
یہ غزل ایک لاپرواہ اور سنگ دل محبوب کے لیے عاشق کی گہری تکلیف اور نامکمل حسرت کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر افسوس کرتا ہے کہ محبوب کو دیکھنے کی آرزو موت کے وقت بھی ادھوری رہ جائے گی، اور محبوب کی بے اعتنائی کو ایک تیز خنجر قرار دیتا ہے۔ فطرت کی خوبصورتی، جیسے گلاب اور بہار، اس گہری تڑپ کو مزید بڑھا دیتی ہے، جو ایک ایسے دل کو پیش کرتی ہے جو محبوب کی تیز نگاہ میں مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے، ایک ایسی دنیا میں جو درد سے بھری ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्यूँ न हो चश्म-ए-बुताँ महव-ए-तग़ाफ़ुल क्यूँ न हो
या'नी उस बीमार को नज़्ज़ारे से परहेज़ है
کیوں نہ ہوں محبوباؤں کی آنکھیں بے پروائی میں ڈوبی ہوئیں؟ یعنی، اس بیمار شخص کو اب دیکھنے سے پرہیز ہے۔
2
मरते मरते देखने की आरज़ू रह जाएगी
वाए नाकामी कि उस काफ़िर का ख़ंजर तेज़ है
مرتے مرتے بھی دیکھنے کی آرزو ادھوری رہ جائے گی۔ وائے ناکامی کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے۔
3
'आरिज़-ए-गुल देख रू-ए-यार याद आया 'असद'
जोशिश-ए-फ़स्ल-ए-बहारी इश्तियाक़-अंगेज़ है
اسد، گلاب کے رخسار دیکھ کر یار کا چہرہ یاد آیا۔ بہار کے موسم کا جوش واقعی اشتیاق انگیز ہے۔
4
दिल सरापा वक़्फ़-ए-सौदा-ए-निगाह-ए-तेज़ है
ये ज़मीं मिस्ल-ए-नीस्ताँ सख़्त नावक-ख़ेज़ है
میرا دل مکمل طور پر تیز نگاہ کے سودا پر وقف ہے۔ یہ زمین، ایک نیستاں کی مانند، سخت تیر برسانے والی ہے۔
5
हो सके क्या ख़ाक दस्त-ओ-बाज़ू-ए-फ़रहाद से
बेसितूँ ख़्वाब-ए-गिरान-ए-ख़ुसरव-ए-परवेज़ है
فرہاد کے ہاتھ اور بازو سے بھلا کیا حاصل ہو سکتا تھا؟ بیسیتوں تو درحقیقت خسرو پرویز کا ایک بھاری اور گہرا خواب ہے۔
6
उन सितम-केशों के खाए हैं ज़ि-बस तीर-ए-निगाह
पर्दा-ए-बादाम यक ग़िर्बाल-ए-हसरत-बेज़ है
ان ستم گروں کی اتنی نگاہوں کے تیر کھائے ہیں کہ میری بادامی پلکیں اب حسرتوں کو چھانتی ہوئی ایک چھلنی بن گئی ہیں۔
7
ख़ूँ-चकाँ है जादा मानिंद-ए-रग-ए-सौदाइयाँ
सब्ज़ा-ए-सहरा-ए-उल्फ़त नश्तर-ए-ख़ूँ-रेज़ है
راستہ دیوانوں کی رگوں کی مانند خوں ٹپکا رہا ہے۔ صحرائے اُلفت کی سبزی خون بہانے والا نشتر ہے۔
8
है बहार-ए-तेज़-रौ गुलगून-ए-निकहत पर सवार
यक शिकस्त-ए-रंग-ए-गुल सद-जुम्बिश-ए-महमेज़ है
تیز رفتار بہار گلاب رنگ خوشبو پر سوار ہے۔ پھول کے رنگ کا ایک مرجھانا سو مہمیزوں کے برابر ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
