हो सके क्या ख़ाक दस्त-ओ-बाज़ू-ए-फ़रहाद से
बेसितूँ ख़्वाब-ए-गिरान-ए-ख़ुसरव-ए-परवेज़ है
“What little could Farhad's hand and arm ever achieve?Behistun is Khusrau Parvez's heavy dream, believe.”
— مرزا غالب
معنی
فرہاد کے ہاتھ اور بازو سے بھلا کیا حاصل ہو سکتا تھا؟ بیسیتوں تو درحقیقت خسرو پرویز کا ایک بھاری اور گہرا خواب ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
